Skip to content

چوری اور اس کا کفارہ دسویں جماعت کے طلبہ کے لئے مکمل گائڈ

یہ بلاگ پوسٹ خاص طور پر کلاس 10 کے اردو اے کے طلباء کے لیے تیار کی گئی ہے تاکہ وہ اپنے نصاب کی کتاب “نوائے اردو” کے باب “چوری اور اس کا کفارہ” کو بہتر طور پر سمجھ سکیں۔ اس میں کہانی کا مفصل خلاصہ، اہم الفاظ کے معنی، سوالات کے آسان اور جامع جواب، اور عملی کام کے لیے رہنمائی شامل ہے۔ اس مواد کا مقصد طلباء کی تعلیمی مدد کے ساتھ ساتھ ان میں اخلاقی و ادبی شعور بیدار کرنا بھی ہے، جس سے نہ صرف نصاب کی تیاری آسان ہو بلکہ اردو ادب سے محبت اور فہم بھی بڑھ سکے۔ یہ پوسٹ نیشنل کریکولم اینڈ ایجوکیشن ریسرچ ٹریننگ (NCERT) کی تصنیف کردہ کتاب کے مطابق ہے اور تعلیمی معیار کے عین مطابق ہے۔

    Lesson 6 Chori Aur Uska Kaffara NCERT Nawa-e-Urdu

    چوری اور اس کا کفارہ کہانی کا خلاصہ

    ’’چوری اور اس کا کفارہ‘‘ ایک حقیقی اور سبق آموز کہانی ہے جو سید عابد حسین نے مہاتما گاندھی کی خود نوشت ’’My Experiments with Truth‘‘ کے اردو ترجمے سے ماخوذ کی ہے۔ اس کہانی میں مصنف اپنی زندگی کے ان الم ناک لمحات کو بیان کرتا ہے جب اس نے بچپن میں دوستوں کی صحبت میں رہتے ہوئے غلط فیصلے کیے، خاص طور پر چوری کرنے کی عادت میں پڑ گیا۔ مصنف نے بتایا کہ کس طرح اس کے والد نے اس کی غلطیوں کو معافی اور محبت کے ساتھ قبول کیا اور اسے اپنی زندگی سدھارنے کا موقع دیا۔ کہانی میں دوستی کے اصل مفہوم، اصلاح کی ضرورت اور خود شناسی پر زور دیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ چوری کے گناہ اور اس کا کفارہ یعنی سزا اور معافی کے بارے میں گہرے فلسفیانہ اور اخلاقی نکات شامل ہیں۔ یہ داستان نوجوانوں کو زندگی میں راہِ صواب اختیار کرنے اور گناہوں سے بچنے کی ترغیب دیتی ہے۔

    لفظ و معنی

    لفظمعنی (اردو)Meaning (Simple English)
    کفارہگناہ یا قصور کا بدلہ جو قصور وار کی طرف سے ادا ہوCompensation, penalty for a sin or mistake
    قلبی دوستدوست، بہت قریبی دوستClose friend, dear companion
    متنبہ کیاخبردار کیا، آگاہ کیاWarned, alerted
    عذر معذرتپریشانی، الجھنExcuse, apology, trouble
    ترددکے طور پر جو بات کہی جائےHesitation, doubt
    توجیہہکسی قصور یا کمی کی صفائی، وجہ بیان کرنا، دلیل دیناExplanation, justification
    ایک جان دو قالبانتہائی دوستی، گویا جسم دو ہیں لیکن جان ایکDeep friendship, two bodies one soul
    لغزشغلطی، بھول چوک، گمراہیMistake, slip
    مساماتجلد کے باریک سوراخ جن سے پسینہ نکلتا ہےPores (tiny holes in skin)
    زہر قاتلوہ زہر جس کے کھانے سے انسان مر جائے، مہلک زہرDeadly poison
    مرتکبکام میں ہاتھ ڈالنا، قصور وارGuilty, someone who committed (a fault)
    صاحب فراشوہ بیمار جو بستر سے نہ اُٹھ سکےBedridden, very ill person
    اہمسااہنسا، خون خرابے اور توڑ پھوڑ میں یقین نہ رکھنا یا ان باتوں پر عمل نہ کرنا، عدم تشددNon-violence, peace
    ہمہ گیرجو سب پر چھایا ہوUniversal, widespread
    عفومعافی، درگذرForgiveness, pardon

    غور کرنے کی بات

    • یہ مضمون مہاتما گاندھی کی آپ بیتی “My Experiments With Truth” کے اردو ترجمہ “تلاش حق” سے لیا گیا ہے۔
    • مضمون پڑھتے وقت آپ کو کسی بھی سطر پر یہ محسوس نہیں ہوگا کہ یہ ترجمہ ہے۔
    • اچھے اور کامیاب ترجمے کی یہی خوبی ہے کہ اس پر اصل کا گمان ہو۔
    • مہاتما گاندھی نے اپنی سوانح لکھتے وقت اپنی شخصی کمزوریوں پر کسی طرح کا پردہ نہیں ڈالا اور کھلے دل سے اپنی غلطیوں اور کوتاہیوں کا اعتراف کیا اور خود ہی اپنی اصلاح کی۔
    • ایک اچھی آپ بیتی کی پہلی خوبی یہی ہے کہ اس میں کسی طرح کا تصنع نہ ہو۔
    • اس طرح کی آپ بیتیاں پڑھنے والے کے لیے لطف کے ساتھ ساتھ عبرت اور اصلاح کے مواقع بھی فراہم کرتی ہیں۔

    سوالوں کے جواب لکھیے

    سوال نمبر 1
    ”انسان پر بہ نسبت نیکی کے بدی کا اثر جلد پڑتا ہے ، ایسا کیوں؟ وضاحت کیجیے۔
    جواب
    بدی کے اثرات زیادہ فوری اور دلکش ہوتے ہیں اس لیے انسان اس کی طرف جلد مائل ہو جاتا ہے، جبکہ نیکی کی طرف راغب ہونے اور اس پر عمل کرنے کے لیے محنت اور ضبط نفس درکار ہوتا ہے۔

    سوال نمبر 2
    مہاتما گاندھی نے اپنی غلطیوں کے کفارے کے لیے کیا طریقہ اختیار کیا؟
    جواب
    گاندھی جی نے اپنی غلطیوں کا کھلے دل سے اعتراف کیا اور اپنے والد کے سامنے معافی مانگی اور آئندہ ایسی غلطی نہ کرنے کا عہد کیا۔

    سوال نمبر 3
    گاندھی جی کا اعتراف نامہ پڑھ کر ان کے والد پر کیا اثر ہوا؟
    جواب
    گاندھی جی کے والد بہت رنجیدہ اور آبدیدہ ہو گئے، ان کے چہرے پر آنسو بہنے لگے اور انہوں نے گاندھی جی کو معاف کر دیا۔ اس معافی اور محبت نے گاندھی جی کے دل کو پاک کر دیا اور انہیں سبق مل گیا۔

    عملی کام

    مضمون: چوری ایک بری عادت ہے

    چوری ایک ایسی بری عادت ہے جس سے فرد نہ صرف اپنی شخصیت کو نقصان پہنچاتا ہے بلکہ خاندان اور معاشرے کی نظر میں بھی اپنی عزت کھو بیٹھتا ہے۔ چوری کرنے والا پہلے چھوٹی چھوٹی چیزوں سے آغاز کرتا ہے، لیکن وقت کے ساتھ یہ عادت اس کی زندگی میں مستقل طور پر داخل ہو سکتی ہے۔ چوری کے بعد انسان کو ہمیشہ خوف اور شرمندگی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ یہ بری عادت نہ صرف اخلاقی گراوٹ کی نشاندہی کرتی ہے بلکہ ایمان اور عزتِ نفس کو بھی مجروح کرتی ہے۔ گھر، اسکول یا دفتر سے چوری کرنے والا شخص سب کا اعتماد کھو دیتا ہے اور اگر اس کی حرکت سامنے آجائے تو اس کا دل ہمیشہ خوف زدہ اور بے چین رہتا ہے۔ چوری کی وجہ سے معاشرے میں بے اعتمادی اور بگاڑ پیدا ہوتا ہے۔ اگر کوئی شخص غلطی سے چوری کر بیٹھے تو اُسے فوراً اپنی غلطی کا اعتراف کر کے معافی مانگنی چاہیے اور آئندہ کے لیے توبہ کرنی چاہیے۔ یہ ہمارے لیے ضروری ہے کہ ہم اپنے بچوں میں ایمانداری اور سچائی کی عادتیں پیدا کریں تاکہ وہ ایک اچھے انسان اور ذمہ دار شہری بن سکیں۔


    گاندھی جی کی زندگی سے متعلق کتابیں

    • تلاشِ حق (مہاتما گاندھی کی آپ بیتی کا اردو ترجمہ)
    • میری کہانی (اردو ترجمہ Mahatma Gandhi: My Story)
    • گاندھی جی کی زندگی (مخلف اردو مصنفین)
    • گاندھی جی کی سوانح حیات (اردو ترجمہ)
    • The Story of My Experiments with Truth (اصل انگریزی آپ بیتی)
    • Gandhi: An Autobiography
    • The Life of Mahatma Gandhi (Louis Fischer)
    • Gandhi Before India (Ramachandra Guha)
    • The Essential Gandhi (ed. Louis Fischer)

    مصنف سید عابد حسین کے بارے میں

    سید عابد حسین 1896 میں بھوپال میں پیدا ہوئے، جب کہ ان کا تعلق داعی پور ضلع فرخ آباد (اتر پردیش) سے تھا۔ اُن کی ابتدائی تعلیم گاؤں کے اسکول اور بعد میں بھوپال میں ہوئی۔ اعلیٰ تعلیم کے لیے وہ الہ آباد یونیورسٹی، آکسفورڈ یونیورسٹی (برطانیہ) اور برلن یونیورسٹی (جرمنی) گئے اور فلسفہ میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی۔ جرمنی سے واپسی پر وہ ڈاکٹر ذاکر حسین اور پروفیسر محمد مجیب کے ساتھ جامعہ ملیہ اسلامیہ سے وابستہ ہوگئے اور تدریس و تصنیف کے عظیم کام انجام دیتے رہے۔ عابد حسین نے ادب میں گراں قدر خدمات سرانجام دیں؛ اُنہوں نے “پردۂ غفلت” جیسے مشہور ڈرامے لکھے، گوئٹے کی “فاؤسٹ” اور کئی جرمن تصانیف کا اردو ترجمہ کیا اور مہاتما گاندھی کی خود نوشت “تلاشِ حق” کے نام سے اردو میں منتقل کی۔ وہ “اسلام” اور “عصر جدید” سمیت کئی علمی جرائد کے بانی مدیر بھی رہے۔ ان کی تحریریں اردو علمی ادب میں منفرد مقام رکھتی ہیں۔

    Leave a Reply

    Your email address will not be published. Required fields are marked *

    This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.