منٹو کے افسانے “نیا قانون” کے خلاصہ، سوالات و جوابات، اہم نکات، کردار نگاری اور آن لائن اردو ایم سی کیو کوئز کے ساتھ۔ نویں اور دسویں کلاس کے طلبہ، اردو سبق “نیا قانون” کے خلاصے، حل شدہ سوالات، معنی، اسباق اور آسان تشریح، اردو ٹیسٹ اور MCQ کوئز تلاش کریں۔ بورڈ امتحانات، ہوم ورک اور سمارٹ اسٹڈی کے لیے بہترین اردو اسٹڈی میٹریل۔

الفاظ معانی
| الفاظ (Words) | معنی (Urdu meaning) | Simple English meaning |
|---|---|---|
| مدبرانہ | سمجھداری سے، سُجھا ہوا | wisely, intelligently |
| متانت | سنجیدگی، بردباری | humility, being calm and cool |
| حلقہ | گروہ، ادارہ | group, circle |
| تبادلہ خیال | باہم گفتگو، آپس میں اپنے اپنے خیالات کا اظہار کرنا | discussion |
| تنفّر | نفرت کرنا | to dislike, to hate |
| مکدّر | بے کیف، بدمزہ | gloomy, unpleasant, sad |
| ملاعون | اصل لفظ ’ملعون‘ یعنی جس پر لعنت بھیجی جائے | accursed, damned |
| ہتک | بےیقینی | uncertainty, doubt |
| جدید آئین | نیا قانون، نیا دستور | new constitution, new law |
| دیوانی مقدمہ | زمین جائیداد کا مقدمہ | civil case (about land/property) |
| پیش خیمہ | کسی کام شروع ہونے سے پہلے ہونے والا واقعہ | forerunner, sign of what is about to come |
| ٹوڈی بچہ | انگریزی حکومت کا خوشامدی | sycophant of the British government |
| درخشاں | روشن، چمک دار | shining, sparkling |
| رعونت | تکبر، غرور | Arrogance, pride |
| خوش پوش | خوش لباس، اچھے کپڑے پہننے والا | well-dressed |
| مُتجسّس (mutajassis•मुतजस्सिस) | جستجو کرنے والا، تلاش کرنے والا | curious, seeker |
| خیرہ کن | جس سے آنکھیں چکاچوند ہوجائیں | dazzling, radiant |
| غیر مرئی | جسے دیکھا نہ جا سکے | invisible, cannot be seen |
| طوعاً و کرہاً | مجبورا، چارو ناچار | willingly or unwillingly, forced |
| چشمِ زدن میں | پلک جھپکتے ہی | in the blink of an eye |
| ششدر | حیرت زدہ، حیران | shocked, astonished |
غور کرنے کی بات
- افسانہ ’’نیا قانون‘‘ کا مرکزی کردار منگو کوچوان ہے۔ منگو کوچوان کے ذریعے منٹو نے ایک سیدھے سادے پڑھے لکھے والے کی سوچ، نفسیاتی کیفیات کے ساتھ پیش کی ہے۔
- یہ افسانہ اُس دور میں لکھا گیا ہندوستان پر انگریزوں کی حکومت تھی۔ اگر ہندوؤں کی یہ حکومت منگو کوچوان کو کبھلکھتی تھی، وہ انگریزوں سے نفرت کرتا تھا اور اپنے ملک کی آزادی چاہتا تھا۔
- اس افسانے سے معلوم ہوتا ہے کہ آزادی سے پہلے ہندوستانی عوام میں انگریزوں کے خلاف غم و غصہ تھا۔ انگریزوں نے نہ صرف حکومت کی بلکہ ہندوستانی عوام پر بہت ظلم بھی ڈھائے اور ان کی عزت کو بھی مجروح کیا۔
سوالوں کے جواب لکھیے
سوال نمبر 1
استاد منگو کون تھا اور اسے دنیا کے حالات کی خبریں کس طرح ملا کرتی تھیں؟
جواب:
استاد منگو ایک تانگہ چلانے والا کوچوان تھا۔ اگرچہ وہ پڑھا لکھا نہیں تھا، لیکن اسے دنیا کے حالات کی خبریں اپنی سواریوں کی بات چیت اور اڈے کے دوسرے کوچوانوں سے ملا کرتی تھیں۔
سوال نمبر 2
منگو کوچوان انگریزوں سے کیوں نفرت کرتا تھا؟
جواب:
منگو کوچوان انگریزوں سے اس لیے نفرت کرتا تھا کیونکہ وہ ہندوستان پر حکومت کر رہے تھے اور طرح طرح کے ظلم کرتے تھے۔ اس کے علاوہ چھاؤنی کے گورے اس کے ساتھ بہت برا سلوک کرتے تھے، جس سے اسے ذلت محسوس ہوتی تھی۔
سوال نمبر 3
’’نیا قانون‘‘ کے آنے کی خبر سے منگو کوچوان کیوں خوش تھا؟
جواب:
’’نیا قانون‘‘ کے آنے کی خبر سے منگو کوچوان اس لیے خوش تھا کیونکہ اسے امید تھی کہ اس سے ہندوستانیوں کو آزادی مل جائے گی اور انگریزوں کا راج ختم ہو جائے گا۔
عملی کام
۱۔ منگو کا کردار اپنے الفاظ میں بیان کیجیے۔
منگو ایک دلیر، محنتی اور جذباتی تانگہ چلانے والا کوچوان ہے جو لاہور کے اسٹیشن اڈے پر سب میں عقلمند تصور کیا جاتا ہے۔ اگرچہ اس نے اسکول کبھی نہیں دیکھا، لیکن اس کے باوجود وہ تمام کوچوانوں میں موجودہ ملکی اور غیرملکی خبروں سے آگاہی کے باعث ممتاز ہے۔ منگو کو انگریزوں اور ان کے اقتدار سے شدید نفرت ہے، خصوصاً اس لیے کہ چھاؤنی کے گورے اسے کم تر اور حقیر سمجھتے ہیں اور اس کے ساتھ برا سلوک کرتے ہیں۔ وہ اپنے وطن کی آزادی اور عزت کا آرزو مند ہے اور ہر نئی خبر یا قانون کو امیدوں کا مرکز سمجھتا ہے۔ منگو کی سوچ میں سادگی، معاملات کے بارے میں ایک خواہش مندانہ تجسس اور فوری عمل کی طلب نمایاں ہیں۔ وہ اپنے اردگرد ہونے والے واقعات پر رائے دینے اور بحث مباحثہ کرنے کا شوقین ہے۔ اس کے کردار میں خودداری، حس مزاح، دیانت داری اور ظلم کے خلاف شدید ردِ عمل پایا جاتا ہے۔ منگو کی شخصیت عام عوام کی سرگردانی، امید، مایوسی اور تبدیلی کی آرزو کی مکمل عکاس ہے۔
۲۔ ذیل کے الفاظ کے متضاد لکھیے۔
جنگ — امن
جدید — قدیم
سرد — گرم
گمان — یقین
۳۔ نیچے لکھے محاوروں کو جملوں میں استعمال کیجیے۔
ہوا سے باتیں کرنا:
میرا کزن اتنی تیزی سے سائیکل چلاتا ہے جیسے ہوا سے باتیں کر رہا ہو۔
خون کھولنا:
انصاف نہ ملنے پر اس کے خون کھولنے لگا۔
جان میں جان آنا:
پریشانی کے بعد جب اس نے اچھی خبر سنی تو اس کی جان میں جان آئی۔
نذر کرنا:
محفل میں اس نے اپنی پسندیدہ گھڑی استاد کو نذر کر دی۔
منٹو کے افسانے “نیا قانون” پر مبنی معروضی سوالات (MCQs)
ہر سوال کے بعد آپ کو فوراً بتایا جائے گا کہ جواب درست ہے یا نہیں — ساتھ میں مختصر وضاحت بھی دی جائے گی۔

Malik Mohd. Arshad is a Senior English Teacher at STS High School, Aligarh Muslim University, with 21+ years of experience in English Language Teaching (ELT). An M.A. in English and Linguistics, he combines traditional academic values with modern digital learning methods. He is also a certified alumnus of the Texas Intensive English Program (USA).