یہ غزل شیخ محمد ابراہیم ذوق کے نصاب میں شامل اہم ترین اسباق میں سے ہے، جس میں زندگی اور موت کے فلسفے کو نہایت سادہ اور مؤثر انداز میں بیان کیا گیا ہے۔ دسویں جماعت کے طلبہ کے لئے یہ سبق خاص اہمیت رکھتا ہے کیونکہ اس میں ادبی پہلو کے ساتھ ساتھ امتحانی سوالات کے جوابات کی تیاری کے مواقع بھی فراہم ہوتے ہیں۔ اس تحریر میں آپ کو غزل کا مکمل خلاصہ، تشریح، اہم الفاظ کے معانی اور سوال و جواب دیے جا رہے ہیں تاکہ طلبہ اپنی امتحانی تیاری کو زیادہ جامع اور نتیجہ خیز بنا سکیں۔
لائی حیات آئے قضا لے چلی چلے کا خلاصہ
شیخ محمد ابراہیم ذوق کی یہ مشہور غزل زندگی کی حقیقت اور انسان کی بے بسی کو بہت بلیغ انداز میں بیان کرتی ہے۔ شاعر کہتا ہے کہ انسان کی زندگی اور موت اس کے اختیار میں نہیں، اس کا آنا اور جانا سب اللہ تعالیٰ کے حکم سے ہوتا ہے۔ شاعر نے اپنی بات کے ثبوت میں یہ شعر کہا ہے:
“لائی حیات، آئے قضا لے چلی چلے
اپنی خوشی نہ آئے نہ اپنی خوشی چلے”
یہ شعر واضح کرتا ہے کہ انسان اس دنیا میں نہ اپنی مرضی سے آتا ہے اور نہ اپنی مرضی سے رخصت ہوتا ہے۔ اس کی آمد اور روانگی میں اس کی خواہش یا رضامندی کا کوئی دخل نہیں۔
اسی طرح، شاعر حضرت خضر کا ذکر کرکے بتاتے ہیں کہ چاہے انسان کی عمر کتنی ہی طویل ہو، وقت وفات ہر کسی کو لگتا ہے کہ ابھی تو اس نے دنیا دیکھی ہی نہیں:
“ہو عمر خضر بھی تو ہو معلوم وقت مرگ
ہم کیا رہے یہاں ابھی آئے ابھی چلے”
یہ اشعار سبھی انسانوں کو یہ سبق دیتے ہیں کہ اس دنیا میں سب کچھ عارضی اور فانی ہے۔ انسان جتنا بھی چالاک ہو، اس کی عقل و دانش بھی آخرکار بے بس ہو جاتی ہے۔ دنیا کی آسائشیں، محبتیں اور کامیابیاں، سب کچھ یہیں رہ جاتا ہے، انسان اپنے اعمال کے سوا کچھ ساتھ نہیں لے جا سکتا۔ شاعر کے مطابق زندگی کی اس بساط پر ہر قدم بے اختیار ہے اور انجام سب کے لیے ایک جیسا ہے۔
لفظ معنی
| اردو لفظ | اردو معنی | English Meaning |
|---|---|---|
| حیات | زندگی | Life |
| قضا | موت، حکم خدا | Death, God’s command |
| بساط | چوسر اور شطرنج کھیلنے کا کپڑا، چٹائی | Mat, chessboard |
| بدقمار | وہ جواری جو غلط چال چلے | Bad gambler, loser |
| بوقت مرگ | موت کے وقت | Time of death |
| فغاں | رونا پیٹنا، آہ و زاری ، واویلا | Wailing, Lamenting, Crying over(something) |
| نازاں | ناز کرنے والا، فخر کرنے والا | Proud, boastful |
| خرد | عقل | Intellect, wisdom |
| دانشوری | عقلمندی، دانائی، حکمت | Wisdom, intelligence |
| باد صبا | صبح کی ٹھنڈی ہوا، پروائی | Morning breeze |
غور کرنے کی بات:
- دوسرے شعر میں ’’دل لگے‘‘ اور ’’دل لگی‘‘ نے شعر میں بیان کا حسن پیدا کر دیا ہے۔
- کلام میں جب کسی تاریخی واقعے یا کسی شخصیت کا ذکر ہوتا ہے تو اسے صنعت تلمیح کہتے ہیں۔ یہاں حضرت خضرؑ کا ذکر کیا گیا ہے۔
- حضرت خضرؑ اپنی لمبی عمر کے لیے مشہور ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ وہ قیامت تک زندہ رہیں گے اور بھولے بھٹکوں کو راستہ دکھاتے رہیں گے۔
سوالوں کے جواب لکھیے
سوال نمبر 1:
اس غزل کے مطلع کا مطلب کیا ہے؟
جواب:
مطلع میں شاعر کہتا ہے کہ زندگی اللہ کی طرف سے دی جاتی ہے اور موت بھی اسی کا فیصلہ ہے۔ انسان دنیا میں اپنی خوشی سے نہیں آتا اور نہ ہی اپنی خوشی سے یہاں سے جاتا ہے۔ زندگی اور موت دونوں اس کے اختیار میں نہیں بلکہ قضا یعنی خدا کا حکم ہے جو انسان کو یہاں لاتا اور لے جاتا ہے۔
سوال نمبر 2:
عمر خضر سے شاعر کی کیا مراد ہے؟
جواب:
شاعر نے حضرت خضر کی طویل عمر کا ذکر کر کے بتایا ہے کہ چاہے زندگی کتنی بھی لمبی ہو، موت ایک دن سب کے لیے آتی ہے۔ حضرت خضر کی مثال اس لیے دی گئی ہے کیونکہ وہ لمبی عمر کے باوجود بھی کہتے ہیں کہ ابھی تو دنیا میں آئے ہیں اور چلنے کا وقت آگیا ہے، یوں موت سب کے لیے مقرر ہے۔
سوال نمبر 3:
“ہم کیا رہے یہاں، ابھی آئے ابھی چلے” اس مصرعے کے ذریعے شاعر نے انسانی زندگی کے کس پہلو کی نشاندہی کی ہے؟
جواب:
اس مصرعے میں شاعر نے زندگی کی عارضیت اور فانی ہونے کی حقیقت کو ظاہر کیا ہے۔ انسان چاہے کتنا ہی ہوشیار یا طاقتور ہو، زندگی مختصر ہے اور موت برحق ہے، اس لیے انسان کو دنیا کی چیزوں سے زیادہ وابستہ نہیں ہونا چاہیے۔
سوال نمبر 4:
غزل کے مقطع میں چمن سے شاعر کی کیا مراد ہے؟
جواب:
مقطع میں چمن یعنی باغ کا مطلب دنیا ہے جہاں سب خوشیاں اور خوشبوئیں ہوتی ہیں۔ شاعر کہتا ہے کہ ہم اپنی محبت اور خواہشات کے ساتھ دنیا میں ہیں، مگر اپنی آزمائشوں اور دکھوں کے ساتھ بھی وابستہ ہیں۔ یہاں باد صبا یعنی صبح کی ہوا بھی کبھی کبھی اپنی بلا لے کر آتی ہے، یعنی دنیا کی مشکلات سے انسان کبھی بچ نہیں سکتا۔
The Urdu Faculty at SolvedNotes is a team of language experts and senior teachers specializing in the CBSE Class 9 and 10 Urdu curriculum. We provide comprehensive solutions for standard NCERT textbooks like ‘Jaan Pehchan’, ‘Nawa-e-Urdu’, and ‘Gulzar-e-Urdu’. Our goal is to simplify classical and modern literature, offering detailed Tashreeh (Explanations), Markazi Khayal (Central Ideas), and Khulasa (Summaries) for both Nazm (Poetry) and Nasr (Prose). With a special focus on Urdu Qawaid (Grammar) and letter writing, our notes are designed to help students articulate their answers effectively for Board Exams.