Skip to content

نوائے اردو عورتوں کے حقوق از سر سید احمد خان کی مکمل تشریح

یہ بلاگ پوسٹ جماعت دہم (Urdu A) کے طلباء کے لیے تیار کی گئی ہے تاکہ وہ این سی ای آر ٹی کی نصابی کتاب ’’نوائے اردو‘‘ کے سبق نمبر سات ‘عورتوں کے حقوق‘ کو آسان انداز میں سمجھ سکیں۔ یہاں طلباء کو کہانی کا خلاصہ، اہم الفاظ و معنی، قابلِ غور نکات، مختصر اور جامع سوالات و جوابات، عملی کام اور مصنف سر سید احمد خاں کا مختصر تعارف فراہم کیا گیا ہے۔ اس بلاگ سے نہ صرف اسباق کو یاد کرنا اور امتحانات کی تیاری آسان ہو جائے گی بلکہ طلباء میں خواتین کے حقوق اور معاشرتی اصلاح کے حوالے سے شعور بھی اجاگر ہو گا۔

Lesson 7 Aurton Ke Huqooq NCERT Nawa-e-Urdu

عورتوں کے حقوق کا خلاصہ

سرسید احمد خان کے مضمون “عورتوں کے حقوق” میں واضح کیا گیا ہے کہ مذہب اسلام نے عورت اور مرد کو برابر کے حقوق اور اختیارات دیے ہیں، جو دیگر تربیت یافتہ ملکوں کی نسبت بہت زیادہ اور بہتر ہیں۔ اسلام میں عورت کو مرد کی طرح شادی کرنے کا اختیار حاصل ہے، اس کی جائیداد پر مکمل حق ہے، اور وہ ہر طرح کے معاہدوں اور تصرفات میں خود مختار ہے۔ سرسید نے خواتین کے ساتھ حسن سلوک پر زور دیا ہے اور کہا ہے کہ عورتوں کو خدمت گزار سمجھنے کی بجائے ان کو اپنا قریبی دوست، ساتھی اور خوشیوں کا باعث سمجھنا چاہیے۔ اگرچہ مسلم قانون عورتوں کو مساوی حقوق دیتا ہے، لیکن مسلم معاشروں میں عورتوں کے ساتھ برتاؤ اکثر ناقص اور غیر مہذب ہوتا ہے۔ سرسید نے عرب اور مسلم دنیا کی اس خرابی پر افسوس کیا اور اصلاح کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ اسلامی تعلیمات کے مطابق مردوں کو عورتوں کے ساتھ پیار، خیال، عزت اور احترام کا رویہ رکھنا چاہیے تاکہ معاشرہ ترقی کرے اور اسلامی تعلیمات کا حق ادا ہو۔ یہ مضمون خواتین کے حقوق اور ان کے تحفظ کے حوالے سے ایک روشن فکرانہ نقطہ نظر پیش کرتا ہے اور معاشرتی اصلاح کا پیغام دیتا ہے تاکہ خواتین کو ان کا جائز مقام مل سکے۔

لفظ و معنی

لفظمعنی (اردو)Meaning (Simple English)
آفرینشپیدائشCreation, birth
با ایں ہمہان سب کے باوجود، باوجود ان باتوں کےDespite all these
الااگر، سوائےExcept, unless
معاہدہسمجھوتہ، باہم قول و قرارAgreement, contract
منصورتصور کیا گیا، سوچا ہواConsidered, envisaged
جواب دہذمہ دار، باز پرس کے قابلResponsible, accountable
تصرفخرچ، استعمالUse, management
محاصلمحصول کی جمع، لگان، مالگذاری، نفعRevenue, income
بیعفروخت، بیچناSale, selling
ہبہ کرناعطا کرنا، وقف کرناGift, endowment
بعوضبدلے میں، جواب میںIn exchange for, as compensation
انیسانس رکھنے والا، محبت کرنے والا دوستClose companion, dear friend
جلیسساتھ بیٹھنے والا، ساتھی دوستCompanion, associate
نعوذ بالله منهاہم اس سے خدا کی پناہ مانگتے ہیںWe seek God’s refuge from it
تقویتطاقت، قوتStrength, power
قوانینقانون کی جمع، قاعدہ، دستور، ضابطہLaws, rules, regulations
مہذبتہذیب یافتہCivilized, cultured

غور کرنے کی بات

  • اس مضمون میں سرسید نے عورتوں کے حقوق پر روشنی ڈالی ہے اور بتایا ہے کہ مذہب اسلام میں عورت اور مرد کو برابر کا درجہ دیا گیا ہے۔

سوالوں کے جواب لکھیے

سوال نمبر 1
اسلام میں عورتوں کو کیا حقوق اور اختیارات دیے گئے ہیں؟
جواب
اسلام میں عورتوں کو مردوں کے برابر حقوق اور اختیارات دیے گئے ہیں۔ عورت اپنی شادی میں خودمختار ہے اور اس کی بلا رضا نکاح نہیں ہو سکتا۔ وہ اپنی جائیداد کی مالک ہے اور اس پر مکمل تصرف کا حق رکھتی ہے۔ وہ ہر قسم کے معاہدے کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے اور اپنی جائیداد کو خرید، بیچ، ہبہ یا وصیت کر سکتی ہے۔ عورت کو مرد کے برابر دنیا و آخرت میں سزا و جزا ملتی ہے۔

سوال نمبر 2
تربیت یافتہ ملکوں میں عورتوں کے ساتھ کیا سلوک کیا جاتا ہے؟
جواب
تربیت یافتہ ملکوں میں عورتوں کے ساتھ عزت، محبت، اور خیال کا برتاؤ کیا جاتا ہے۔ انہیں اپنے حقوق دیے جاتے ہیں اور انہیں برابر کا درجہ دیا جاتا ہے۔ وہاں عورتوں کو خدمت گزار نہیں بلکہ رفیق اور شریکِ حیات سمجھا جاتا ہے اور ان کی آسائش اور خوشی کا خاص خیال رکھا جاتا ہے۔

سوال نمبر 3
مردوں کو عورتوں کے ساتھ کس طرح کا سلوک کرنا چاہیے؟
جواب
مردوں کو چاہیے کہ وہ عورتوں کے ساتھ حسن سلوک، محبت، تواضع اور خیال رکھیں۔ انہیں اپنا دوست، انیس اور جلیس سمجھیں، ان کی عزت کریں اور ہمیشہ ان کی خوشی کا خیال رکھیں۔ عورتوں کو اپنی خدمت گزار نہ سمجھیں بلکہ انہیں اپنے دکھ سکھ کا شریک بنائیں۔

عملی کام

1۔ ہمارے ملک میں عورتوں کی حالت پر ایک مختصر مضمون:
ہمارے ملک میں عورتوں کی حالت وقت کے ساتھ بہتر ہو رہی ہے۔ آج عورتیں تعلیم، صحت، سیاست، کاروبار اور کھیل سمیت مختلف شعبوں میں نمایاں کردار ادا کر رہی ہیں۔ حکومت نے عورتوں کے حقوق کو تحفظ دینے اور ان کے لیے نئی پالیسیوں پر عمل شروع کیا ہے۔ مختلف این جی اوز اور فلاحی تنظیمیں بھی عورتوں کو بااختیار بنانے اور ان کی آواز بلند کرنے کا کام کر رہی ہیں۔ اس کے باوجود، دیہات اور کم ترقی یافتہ علاقوں میں بہت سی عورتیں تعلیم، صحت اور روزگار کے مساوی مواقع سے محروم ہیں۔ ہمیں چاہیے کہ معاشرتی روایات کو بدلیں اور عورتوں کو مکمل حقوق اور تحفظ فراہم کریں، تاکہ وہ ملک کی ترقی میں بھرپور حصہ لے سکیں۔

2۔ پانچ ہندوستانی خواتین جنہوں نے مختلف شعبوں میں شہرت حاصل کی:

  • کلپنا چاولہ (خلائی سائنسدان)
  • مریم مرزا (تعلیم و سائنس)
  • کرن بیدی (پولیس و انتظامیہ)
  • میری کوم (کھیل – باکسنگ)
  • لتا منگیشکر (موسیقی)

اہم سوالات

سوال نمبر 1
عورت اور مرد کو مذہب اسلام میں کیسا درجہ دیا گیا ہے؟
جواب:
مذہب اسلام میں عورت اور مرد دونوں کو برابر کا درجہ دیا گیا ہے اور دونوں کے حقوق ایک جیسے ہیں۔

سوال نمبر 2
عورت کی شادی میں کیا اصول ہے؟
جواب:
عورت کی بلا رضا مندی نکاح نہیں ہو سکتا اور وہ اپنی شادی میں خود مختار ہوتی ہے۔

سوال نمبر 3
عورت کو اپنی جائیداد پر کیا حقوق حاصل ہیں؟
جواب:
عورت اپنی جائیداد کی مکمل مالک ہوتی ہے اور اس میں تصرف کا حق رکھتی ہے، اسے خرید و فروخت، ہبہ اور وصیت کرنے کی آزادی حاصل ہے۔

سوال نمبر 4
عورت کو جائداد میں وراثت کا حق کیسے ملتا ہے؟
جواب:
عورت کو رشتہ داروں اور شوہر کی جائداد میں سے معین حصے کے مطابق وراثت میں حق ملتا ہے۔

سوال نمبر 5
عورت کو دینی نیکیوں اور دنیا و آخرت میں کیا حقوق دیے گئے ہیں؟
جواب:
عورت دنیا اور آخرت میں بھی مردوں کی طرح گناہوں اور ثواب کی سزا اور جزا کی مستحق ہوتی ہے۔

سوال نمبر 6
مضمون میں عورتوں کے ساتھ مردوں کے رویے کے بارے میں کیا کہا گیا ہے؟
جواب:
مردوں کو چاہیے کہ وہ عورتوں کے ساتھ محبت، تواضع، خیال اور احترام کا برتاؤ کریں اور انہیں اپنا دوست و ساتھی سمجھیں۔

سوال نمبر 7
تربیت یافتہ ملک عورتوں کے ساتھ کیسا سلوک کرتے ہیں؟
جواب:
تربیت یافتہ ملکوں میں عورتوں کو عزت، خوشی، آرام اور باوقار زندگی دی جاتی ہے۔

سوال نمبر 8
اسلامی قانون اور مسلم معاشرے میں عورتوں کے حقوق میں کیا فرق ہے؟
جواب:
اسلامی قانون عورتوں کو برابر کے حقوق دیتا ہے، لیکن مسلم معاشروں میں اکثر عورتوں کے ساتھ برتاؤ نامناسب ہوتا ہے۔

سوال نمبر 9
سرسید احمد خان عورتوں کے حقوق پر کیوں زور دیتے ہیں؟
جواب:
سرسید احمد خان چاہتے تھے کہ مسلم معاشرہ عورتوں کو ان کا جائز حق دے اور انہیں بہتر زندگی مہیا کرے۔

سوال نمبر 10
عورتوں کے حق میں اصلاح کے لیے کیا ضروری ہے؟
جواب:
عورتوں کے حقوق کی حفاظت اور حسن سلوک کو فروغ دینے کے لیے معاشرتی رویوں میں تبدیلی اور قوانین کی مکمل پابندی ضروری ہے۔

سر سیّد کے بارے میں

سر سیّد احمد خان دہلی کے ایک معزز گھرانے میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے اپنی تعلیم بہت محنت اور لگن سے مکمل کی اور 1839 میں انگریزی سرکار کی ملازمت اختیار کی۔ انہوں نے ہندوستان میں سائنسی علوم کے فروغ کے لئے سائنٹفک سوسائٹی قائم کی۔ سر سیّد نے علی گڑھ میں اسکول کی بنیاد رکھی جو بعد میں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی بنا۔ وہ اردو میں جدید مضمون نگاری کے موجد سمجھے جاتے ہیں اور زندگی کے ہر شعبے میں اصلاح کی فکر رکھتے تھے۔ سر سیّد اپنے دور کے ایک بڑے مصلح تھے جنہوں نے قوم کو جدید تعلیم سے روشناس کرایا۔

    Leave a Reply

    Your email address will not be published. Required fields are marked *

    This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.