Skip to content

بھولا اردو سبق – مکمل گائیڈ برائے طلبہ

بھولا از راجندر سنگھ بیدی

خلاصہ — بھولا از راجندر سنگھ بیدی

افسانہ بھولا راجندر سنگھ بیدی کا ایک سادہ مگر نہایت پُراثر قصہ ہے جو مایا نامی ایک بیوہ عورت، اس کے ننھے بیٹے بھولا اور راوی یعنی بھولا کے دادا کے گرد گھومتا ہے۔ کہانی کا آغاز مایا کے اپنے بھائی کے لیے رکھی جانے والی راکھی کی تیاری سے ہوتا ہے۔ وہ خاص طور پر مکھن تیار کر رہی ہوتی ہے تاکہ بھائی کے آنے پر اس کی خاطر داری کر سکے۔ بھولا ایک نہایت معصوم، باتونی اور کہانیوں کا شوقین بچہ ہے جو گیتا کا ’’مہاتم‘‘ بھی صرف اس لیے سنتا ہے کہ اسے کہانی کا مزہ آتا ہے۔

ایک دن دادا کو ضروری کام کے باعث دوپہر کی کہانی مؤخر کرنی پڑتی ہے۔ بعد میں وہ بھولے کو سات شہزادوں اور سات شہزادیوں کی طویل کہانی سناتے ہوئے مذاق میں کہہ دیتے ہیں کہ دن میں کہانی سنانے سے مسافر راستہ بھول جاتے ہیں۔ بھولا اس بات کو سچ مان لیتا ہے۔

جب شام کو ماموں دیر سے آتے ہیں تو بھولا سمجھتا ہے کہ وہ راستہ بھٹک گئے ہیں اور خود کو ذمے دار سمجھتے ہوئے رات میں چراغ لے کر انہیں ڈھونڈنے نکل پڑتا ہے۔ اس کی گمشدگی سے گھر میں کہرام مچ جاتا ہے۔ عین مایوسی کے وقت ماموں بھولے کو گود میں لیے واپس آتے ہیں۔ بھولا معصومیت سے بتاتا ہے کہ وہ اس لیے نکلا تھا تاکہ ماموں کو راستہ دکھا سکے۔

یہ کہانی خاندانی محبت، بچوں کی معصومیت اور رشتوں کے خلوص کو نہایت خوبصورتی سے بیان کرتی ہے، ساتھ ہی یہ بھی ظاہر کرتی ہے کہ بچے بڑوں کی بات کو کس سنجیدگی سے لیتے ہیں۔

الفاظ معانی سبق بھولا مصنف راجندر سنگھ بیدی

لفظمعنی (اردو)Meaning (English)
کوزهمٹی کا چھوٹا پیالہ، گھڑاSmall clay bowl or pot
سپیدیسفیدیWhiteness
خوش الحاناچھی آواز والاMelodious, pleasant-voiced
ثبت کرنانشان بنانا، نقش بٹھاناTo mark, to engrave
روح فرساروح کو تکلیف دینے والاSoul-distressing, agonising
تابعتحت، پابندSubordinate, bound
جوہرمینڈEmbankment (raised edge of a field)
روبچھوٹا تالاب، گڑھاSmall pond, pit
مقفلتالا لگا ہوا، بندLocked, closed
مخمصے (مخمصہ)الجھن، جھنجھٹDilemma, complication
ادھیائےبابChapter
استوتروہ اشلوک جس میں ایشور کی تعریف کی گئی ہوVerse praising God
مزرعکھیتیFarmland
یاسناامیدی، مایوسیDespair
توقفوقفہPause, delay
خانقاہکسی پیر، بزرگ یا صوفی کے رہنے اور عبادت کرنے کی جگہMonastery, Sufi lodge
پٹواریزمین ناپنے والا سرکاری ملازمGovernment land measurer
جریبزمین ناپنے والی زنجیر (پیمانہ)Measuring chain for land
پائینتیپلنگ یا چار پائی کا وہ حصہ جدھر پیر کیے جاتے ہیںFoot end of a cot/bed
تواضعخاطر مداراتHospitality
مبنیمنحصرBased on, dependent
زیر لبہونٹوں ہونٹوں میں، آہستہIn an undertone, softly
نمناکبھیگا ہواMoist, damp
استراحتآرامRest
شانهکندھاShoulder
قید با مشقتقید کی وہ سزا جس میں محنت بھی شامل ہوRigorous imprisonment
نجاترہائی، آزادی، چینLiberation, relief
دہلیزدر کھٹ ملنے والیThreshold
اگن بوٹبھاپ سے چلنے والی کشتیSteam boat
سہاگ وتیسہاگن، جس کا شوہر زندہ ہوMarried woman with living husband
نام روشن کرنا (محاوره)شہرت ہونا، مشہور ہوناTo bring fame
متفکرانهغور و فکر کے انداز میںThoughtfully
فرط مسرتخوشی کی زیادتیExcess of joy
رقترونے کی کیفیت، روہانسا ہوناEmotional state, tearfulness
غلبهفتح، کامیابی، برتریDomination, victory
اختر شماریستارے گنناStar counting
شق ہوناپھٹنا، ٹکڑے ٹکڑے ہوناTo crack, split
منت ماننانذر ماننا، مراد پوری ہونے پر عبادت یا صدقہ کرنے کی نیتTo vow, make a religious pledge
پتھرائی آنکھبے حس و حرکت یا ٹھہری ہوئی آنکھStony-eyed, expressionless eyes
خانه خرابجس کا گھر برباد ہو جائےRuined household
ششدرہکا بکا، حیرانAstonished, stunned

سوالوں کے جواب لکھیے

سوال 1: بھولا گیتا شوق سے کیوں سنتا تھا؟
جواب: بھولا گیتا اس لیے شوق سے سنتا تھا کہ ہر ادھیائے کے آخر میں مہاتم کے طور پر ایک دلچسپ کہانی سنائی جاتی تھی۔ وہ گیتا کو اس کہانی کی وجہ سے سنتا تھا۔


سوال 2: دوپہر میں کہانی سننے کے باوجود بھولا کے چہرے پر خوشی کیوں نظر نہیں آ رہی تھی؟
جواب: اس دن کہانی کے آخر میں بھی بھولا خوش نہ ہوا کیونکہ وہ اپنے ماموں کے آنے کا بےچینی سے انتظار کر رہا تھا اور ان کی تاخیر سے پریشان تھا۔


سوال 3: “عورت کا دل محبت کا سمندر ہوتا ہے۔” مصنف نے یہ بات کیوں کہی ہے؟
جواب: مصنف نے یہ بات اس لیے کہی کیونکہ ماں، باپ، بہن، بھائی، خاوند، بچے سب سے وہ بہت پیار کرتی ہے پھر بھی سمندر کے پانی کی مانند اسکا پیار کبھی ختم نہیں ہوتا۔


سوال 4: بھولا کہاں چلا گیا تھا اور کیوں؟
جواب: بھولا اندھیرے میں پرس پور جانے والی سڑک پر جا پہنچا تھا۔ وہ اس لیے گیا کہ اسے لگا ماموں راستہ بھول گئے ہیں اور بابا نے کہا تھا کہ اگر کوئی مسافر راستہ بھولے تو وہ ذمے دار ہوگا۔

عملی کام

1. بھولا کی واپسی کا منظر اپنے الفاظ میں:
آدھی رات کے وقت جب سب بھولے کی گمشدگی پر پریشان اور غمگین تھے، اچانک دروازہ کھلا اور بھولے کا ماموں اندر آیا۔ اس کی گود میں بھولا تھا، سر پر مٹھائی کی ٹوکریاں اور ہاتھ میں بتی تھی۔ مایا نے بھائی سے کچھ پوچھا بھی نہیں اور بھولے کو چھین کر چومنے لگی۔ پورے گھر میں خوشی کی لہر دوڑ گئی اور سب نے ماموں کو مبارکباد دی۔


2. محاورے:

  • نام روشن کرنا
  • کلیجہ شق ہونا
  • زمین نکل جانا
  • ہکا بکا رہ جانا
  • خانہ خراب ہونا

3. افسانے میں آئے ہوئے ہندی الفاظ:

  • استوتر
  • ادھیائے
  • گیتا
  • رامائن
  • اشلوک

4. راکھی باندھنے کا ذکر — مختصر نوٹ:
اس تہوار کا نام “راکھشا بندھن” ہے۔ یہ ہندو برادری کا روایتی تہوار ہے جس میں بہن اپنے بھائی کی کلائی پر راکھی باندھتی ہے اور اس کی لمبی عمر اور خوشحالی کی دعا کرتی ہے۔ بھائی بہن کو تحفے دیتا ہے اور ہر حال میں اس کی حفاظت کا وعدہ کرتا ہے۔ یہ تہوار بہن بھائی کے رشتے کی محبت اور مضبوطی کی علامت ہے۔

اہم سوالات اور انکے جوابات

1. بھولا گیتا شوق سے کیوں سنتا تھا؟
بھولا گیتا اس لیے شوق سے سنتا تھا کیونکہ ہر باب کے آخر میں “مہاتم” کے طور پر ایک دلچسپ کہانی بیان کی جاتی تھی۔

2. دوپہر میں کہانی سننے کے باوجود بھولا کے چہرے پر خوشی کیوں نہیں تھی؟
کیونکہ بھولا ماموں کے آنے کا شدت سے منتظر تھا اور کہانی کے باوجود اس کی توجہ اسی انتظار پر مرکوز تھی۔

3. “عورت کا دل محبت کا سمندر” کہنے سے مصنف کا کیا مطلب تھا؟
اس سے مراد ہے کہ عورت کا پیار لامحدود اور سب کیلئے یکساں ہوتا ہے، چاہے وہ ماں ہو، بہن یا بیوی، اس کا دل ہمیشہ محبت سے بھرا رہتا ہے۔

4. بھولا کہاں اور کیوں گیا تھا؟
بھولا اندھیری رات میں ماموں کو ڈھونڈنے نکل گیا کیونکہ اسے لگا کہ بابا کی بات کے مطابق ماموں راستہ بھول گئے ہوں گے اور یہ اس کی ذمہ داری ہے کہ انہیں واپس لے آئے۔

5. مایا کے بھائی کے نہ آنے پر مایا اور بھولا کا ردعمل بیان کیجیے۔
مایا اداس اور فکر مند ہو گئی جبکہ بھولا بےچین اور سوالات کرنے لگا کہ ماموں کیوں نہیں آئے۔

6. مصنف نے پٹواری کے ساتھ جانے کے بجائے بھولا کی خواہش پوری کیوں کی؟
کیونکہ بھولا نے ضد اور محبت کے ساتھ کہانی سننے کی فرمائش کی اور مصنف نے اسے خوش کرنے کیلئے اپنا ارادہ بدل دیا۔

7. بھولا کی گمشدگی کے بعد گھر میں کیا حالات پیدا ہوئے؟
گھر میں کہرام مچ گیا، مایا غم سے بے ہوش ہو گئی، عورتیں رونے لگیں، سب نے جگہ جگہ بھولا کو ڈھونڈا، اور مصنف بھی غم اور پریشانی میں مبتلا ہو گیا۔

8. بھولا کو ماموں کے آنے کا اتنا انتظار کیوں تھا؟
کیونکہ ماموں ہر بار اس کیلئے کھلونے، مٹھائیاں اور خاص چیزیں لاتے تھے، اس لیے بھولا ان کے آنے کیلئے بےتاب تھا۔

9. کہانی میں مصنف کی شخصیت کے کون سے پہلو سامنے آتے ہیں؟
مصنف محبت کرنے والا، بچوں کے جذبات سمجھنے والا، اور مایوس حالات میں بھی حوصلہ رکھنے والا شخص دکھائی دیتا ہے۔ اس میں مایا اور بھولا کیلئے ہمدردی اور شفقت بھری ہوئی ہے۔

10. بھولا کی واپسی کے وقت گھر میں کیسا ماحول تھا؟
خوشی کی لہر دوڑ گئی، سب نے مبارکباد دی، مایا نے بھولا کو گود میں لے کر پیار کیا اور گھر میں سکون اور مسرت لوٹ آئی۔

سبق: “بھولا” — معروضی سوالات (MCQs)

ہر سوال کے بعد آپ کو فوراً بتایا جائے گا کہ جواب درست ہے یا نہیں — ساتھ میں مختصر وضاحت بھی دی جائے گی۔


سوال 1: بھولا کس چیز کو شوق سے سنتا تھا؟
سوال 2: بھولا گیتا کیوں سنتا تھا؟
سوال 3: کہانی سنانے کے وقت کو کس بات سے جوڑا گیا؟
سوال 4: مایا کا بھائی، بھولا کے رشتے سے کیا لگتا تھا؟
سوال 5: مایا کا بھائی کس موقع پر آ رہا تھا؟
سوال 6: بھولا اپنے ماموں سے کس چیز کی امید کر رہا تھا؟
سوال 7: بھولا کہاں جا پہنچا تھا؟
سوال 8: بھولا وہاں کیوں گیا تھا؟
سوال 9: مایا کی سب سے زیادہ فکر کس بات کی تھی؟
سوال 10: بھولا کے گم ہونے پر سب سے پہلے کس کو خبر دی گئی؟
سوال 11: بھولا کے ماموں کو وہ کہاں ملا؟
سوال 12: مصنف نے عورت کے دل کو کس سے تشبیہ دی؟
سوال 13: بھولا کی واپسی پر مایا نے سب سے پہلے کیا کیا؟
سوال 14: چوروں/اغوا کے ذکر کا مقصد کیا تھا؟
سوال 15: بھولا کو ماموں کے آنے کا اتنا شوق کیوں تھا؟
سوال 16: بھولا کی تلاش میں سب سے بڑی رکاوٹ کیا تھی؟
سوال 17: بھولا کی گمشدگی پر مصنف کا رویہ کیسا تھا؟
سوال 18: آخر میں ماموں کے بیان سے کیا معلوم ہوا؟
سوال 19: مایا کے بھائی نے بھولا کو کس حالت میں پایا؟
سوال 20: کہانی کا مرکزی پیغام کیا ہے؟
درست: 0 غلط: 0 کل سوال: 20
Tags:

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.