یہ بلاگ پوسٹ خصوصی طور پر کلاس دہم کے طلباء کے لیے تیار کی گئی ہے جو “نواۓ اردو” نصاب کا حصہ ہے۔ یہاں آپ کو افسانہ کی مکمل تفصیل، خلاصہ، سوال و جواب، اور تفہیمی سوالات کے ساتھ مفید ایم سی کیوز ملیں گے جو آپ کی پڑھائی کو آسان اور مزید مؤثر بنانے کے لیے ڈیزائن کیے گئے ہیں۔ یہ مواد نہ صرف نصاب کی ضروریات کو پورا کرتا ہے بلکہ اردو زبان اور ادب کی سمجھ بوجھ کو بھی بڑھاتا ہے، تاکہ آپ امتحانات میں بہتر کارکردگی دکھا سکیں۔ اگر آپ این سی ای آر ٹی، ایڈوانس اردو، یا کلاس دہم کے اردو کے کسی بھی موضوع پر پڑھائی کر رہے ہیں تو یہ بلاگ آپ کے لیے بہترین رہنمائی ثابت ہوگا۔

کہانی بھیک کا خلاصہ
یہ کہانی کیلاش اور بارہ سالہ یتیم لڑکی رجنی کے گرد گھومتی ہے، جو اپنے چھوٹے بھائی بہنوں کے ساتھ غربت اور بھوک میں جی رہی ہے۔ کیلاش جب موتی نگر کی حسین وادی میں آتا ہے تو راستے میں رجنی سے ملاقات ہوتی ہے۔ لڑکی اپنی بےبسی اور مشکل زندگی بیان کرتی ہے تو کیلاش ہمدردی میں اسے نوکری دینے کا وعدہ کرتا ہے۔ رجنی یہ سن کر خوشی سے نہال ہو جاتی ہے اور اگلے دن اپنے پانچوں بھائی بہنوں کو ساتھ لے کر پہنچتی ہے تاکہ سب کی زندگی بدل جائے۔ مگر کیلاش حقیقت دیکھ کر گھبرا جاتا ہے اور سب کو رکھنے سے انکار کر دیتا ہے۔ رجنی اور اس کے معصوم بہن بھائی مایوسی، بھوک اور تھکن کے ساتھ واپس اپنی اندھیری جھونپڑی لوٹ آتے ہیں۔ یہ کہانی غربت کی اذیت، خوابوں کی ناپائیداری اور معاشرتی بےحسی کی دردناک جھلک پیش کرتی ہے۔
الفاظ معانی افسانہ بھیک
| لفظ | معنی (اردو) | Meaning (English) |
|---|---|---|
| بنجر | وہ زمین جس میں کچھ پیدا نہ ہو | Barren land, infertile |
| برف پوش چوٹیاں | برف سے ڈھکی ہوئی چوٹیاں | Snow-covered peaks |
| دلکش | دل کو بھانے والا | Attractive, charming |
| دق کرنا | تنگ کرنا، پریشان کرنا | To trouble, to bother |
| چشمہ | پانی کا سوتا | Spring (of water), fountain |
| حسرت | کسی چیز کے نہ ملنے کا احساس | Feeling of longing, regret |
| پسپا | شکست، ہار | Defeat, retreat |
غور کرنے کی بات
- یہ افسانہ انسان کی بنیادی ضرورتوں یعنی روٹی، کپڑا اور مکان کے مسائل کے گرد گھومتا ہے اور یہ بتاتا ہے کہ بھوک مٹانے کے لیے کتنی مصیبت اٹھانی پڑتی ہے۔
- اس افسانے کے مرکزی کردار رجنی میں ہندوستانی عورت کی ممتا نظر آتی ہے۔ وہ اپنی طاقت، محنت اور مفلسی کے باوجود چھوٹے بہن بھائیوں کے لیے ایثار اور قربانی کی مثال پیش کرتی ہے۔
سوالوں کے جواب لکھیے
- سوال: موتی نگر کی وادی میں داخل ہوتے ہی مسافروں کا مزاج کیوں بدل گیا؟
جواب: موتی نگر کی وادی خوبصورت، سر سبز اور ٹھنڈی تھی۔ وہاں کا موسم خوشگوار اور منظر دلکش تھا۔ اسی وجہ سے سب کے مزاج بدل گئے اور سب خوش ہو گئے۔ - سوال: رجنی پہلی دفعہ خوشی حاصل کر کے کس کی وجہ سے رات بھر سو نہ سکی؟
جواب: رجنی کو پہلی دفعہ خوشی ملی کہ اب اسے اور اس کے بہن بھائیوں کو کھانا ملے گا، اچھے کپڑے اور رہنے کی جگہ ملے گی، اسی خوشی میں وہ رات بھر سو نہ سکی۔ - سوال: پہاڑ چڑھتے وقت رجنی اور اس کے بہن بھائیوں کے جذبات کیا تھے؟
جواب: پہاڑ چڑھتے وقت رجنی اور اس کے بہن بھائی تھکے ہوئے تھے، لیکن ان کے دل میں امید تھی کہ اوپر جا کر زندگی بدل جائے گی اور انہیں بھوک، ڈر اور سردی سے نجات ملے گی۔ - سوال: کیلاش نے ایسا کیا کہا جس سے رجنی پر بجلی سی گر پڑی؟
جواب: کیلاش نے جب یہ دیکھا کہ رجنی اپنے سب بھائی بہنوں کے ساتھ آئی ہے تو کہہ دیا کہ میں اتنے زیادہ بچوں کو نہیں رکھ سکتا۔ اس بات سے رجنی بہت مایوس ہو گئی۔
عملی کام
- سوال: افسانے کا مرکزی خیال بتایئے۔
جواب: اس افسانے کا مرکزی خیال یہ ہے کہ غربت اور محتاجی انسان کو بہت مشکلات میں ڈال دیتی ہے۔ غریب لوگ اپنی بنیادی ضروریات کے لیے بہت محنت اور قربانی دیتے ہیں، لیکن اکثر انہیں مایوسی اور مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ - سوال: اس افسانے میں ایک محاورہ استعمال ہوا ہے: “بجلی گرنا”، یہ محاورہ کس موقع پر استعمال ہوتا ہے؟ ایک یادو جملوں میں استعمال کر کے واضح کیجیے۔
جواب: “بجلی گرنا” اس وقت کہا جاتا ہے جب کسی پر اچانک بہت بڑی مصیبت یا پریشانی آ جائے یا اچانک کوئی بہت بری خبر ملے۔
مثلاً: امتحان کے دن پتا چلا کہ میری فیس جمع نہیں ہوئی، یہ سن کر مجھ پر بجلی گر گئی۔ - سوال: اس افسانے کے آخری جملے کی وضاحت کیجیے۔
جواب: افسانے کا آخری جملہ ہے کہ “رجنی بچوں کو اندھیرے اور بھوک اور ڈر کی آغوش میں چھوڑ کر پڑوسیوں کی دیا کا امتحان کرنے نکل کھڑی ہوئی۔”
اس کا مطلب ہے کہ رجنی اپنی آخری امید کے طور پر اپنے بھائی بہنوں کے لیے پڑوسیوں سے مدد مانگنے جاتی ہے، تاکہ وہ ان کی بھوک کو کچھ دیر کے لیے مٹا سکے۔ یہ غربت اور بے بسی کا عکاس ہے۔
مصنف حیات اللہ انصاری کے بارے میں
حیات اللہ انصاری 1926ء کو لکھنؤ میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے مسلم یونیورسٹی سے تعلیم حاصل کی اور دوران تعلیم ہی کہانیاں لکھنا شروع کر دیں۔ 1937 میں ہفتہ وار اخبار “ہندوستان” سے وابستہ ہو گئے اور پھر مختلف اخبارات میں کام کرتے رہے۔ 1944 میں دہلی آکر “قومی آواز” میں اہم ذمہ داریاں سنبھالیں۔ 1966 اور 1982 میں ریٹائر ہو کر لکھنے اور تحقیق کے کاموں میں مصروف رہے۔
انہوں نے تحقیق، افسانہ، ناول اور بچوں کے لیے کہانیاں لکھیں۔ ان کی مشہور کتابیں “تحفہ” اور “دن میں رات” ہیں۔ تعلیم، انسانی فطرت اور معاشرتی مسائل ان کے افسانوں کے اہم موضوعات ہیں۔ ان کے افسانے سادہ زبان میں ہوتے ہیں اور حقیقت پر مبنی مسائل بیان کرتے ہیں۔ بچوں کے لیے بھی انہوں نے کئی خوبصورت کہانیاں لکھی ہیں، جن کا مجموعہ “کالا دیو” کے نام سے شائع ہوا۔
افسانہ بھیک پر ۲۰ معروضی سوالات
MCQs on ‘Bheek’ by Hayatullah Ansari
ہر سوال کے بعد درست یا غلط جواب کے ساتھ وضاحت دکھائی جائے گی۔ ہر سوال کے نیچے چار آپشنس ہیں کسی ایک پر کلک کریں۔
The Urdu Faculty at SolvedNotes is a team of language experts and senior teachers specializing in the CBSE Class 9 and 10 Urdu curriculum. We provide comprehensive solutions for standard NCERT textbooks like ‘Jaan Pehchan’, ‘Nawa-e-Urdu’, and ‘Gulzar-e-Urdu’. Our goal is to simplify classical and modern literature, offering detailed Tashreeh (Explanations), Markazi Khayal (Central Ideas), and Khulasa (Summaries) for both Nazm (Poetry) and Nasr (Prose). With a special focus on Urdu Qawaid (Grammar) and letter writing, our notes are designed to help students articulate their answers effectively for Board Exams.