Skip to content

افسانہ بھیک حیات اللہ انصاری مکمل گائیڈ

یہ بلاگ پوسٹ خصوصی طور پر کلاس دہم کے طلباء کے لیے تیار کی گئی ہے جو “نواۓ اردو” نصاب کا حصہ ہے۔ یہاں آپ کو افسانہ کی مکمل تفصیل، خلاصہ، سوال و جواب، اور تفہیمی سوالات کے ساتھ مفید ایم سی کیوز ملیں گے جو آپ کی پڑھائی کو آسان اور مزید مؤثر بنانے کے لیے ڈیزائن کیے گئے ہیں۔ یہ مواد نہ صرف نصاب کی ضروریات کو پورا کرتا ہے بلکہ اردو زبان اور ادب کی سمجھ بوجھ کو بھی بڑھاتا ہے، تاکہ آپ امتحانات میں بہتر کارکردگی دکھا سکیں۔ اگر آپ این سی ای آر ٹی، ایڈوانس اردو، یا کلاس دہم کے اردو کے کسی بھی موضوع پر پڑھائی کر رہے ہیں تو یہ بلاگ آپ کے لیے بہترین رہنمائی ثابت ہوگا۔

Bheek by Hayatullah Ansari

کہانی بھیک کا خلاصہ

یہ کہانی کیلاش اور بارہ سالہ یتیم لڑکی رجنی کے گرد گھومتی ہے، جو اپنے چھوٹے بھائی بہنوں کے ساتھ غربت اور بھوک میں جی رہی ہے۔ کیلاش جب موتی نگر کی حسین وادی میں آتا ہے تو راستے میں رجنی سے ملاقات ہوتی ہے۔ لڑکی اپنی بےبسی اور مشکل زندگی بیان کرتی ہے تو کیلاش ہمدردی میں اسے نوکری دینے کا وعدہ کرتا ہے۔ رجنی یہ سن کر خوشی سے نہال ہو جاتی ہے اور اگلے دن اپنے پانچوں بھائی بہنوں کو ساتھ لے کر پہنچتی ہے تاکہ سب کی زندگی بدل جائے۔ مگر کیلاش حقیقت دیکھ کر گھبرا جاتا ہے اور سب کو رکھنے سے انکار کر دیتا ہے۔ رجنی اور اس کے معصوم بہن بھائی مایوسی، بھوک اور تھکن کے ساتھ واپس اپنی اندھیری جھونپڑی لوٹ آتے ہیں۔ یہ کہانی غربت کی اذیت، خوابوں کی ناپائیداری اور معاشرتی بےحسی کی دردناک جھلک پیش کرتی ہے۔

الفاظ معانی افسانہ بھیک

لفظمعنی (اردو)Meaning (English)
بنجروہ زمین جس میں کچھ پیدا نہ ہوBarren land, infertile
برف پوش چوٹیاںبرف سے ڈھکی ہوئی چوٹیاںSnow-covered peaks
دلکشدل کو بھانے والاAttractive, charming
دق کرناتنگ کرنا، پریشان کرناTo trouble, to bother
چشمہپانی کا سوتاSpring (of water), fountain
حسرتکسی چیز کے نہ ملنے کا احساسFeeling of longing, regret
پسپاشکست، ہارDefeat, retreat

غور کرنے کی بات

  • یہ افسانہ انسان کی بنیادی ضرورتوں یعنی روٹی، کپڑا اور مکان کے مسائل کے گرد گھومتا ہے اور یہ بتاتا ہے کہ بھوک مٹانے کے لیے کتنی مصیبت اٹھانی پڑتی ہے۔
  • اس افسانے کے مرکزی کردار رجنی میں ہندوستانی عورت کی ممتا نظر آتی ہے۔ وہ اپنی طاقت، محنت اور مفلسی کے باوجود چھوٹے بہن بھائیوں کے لیے ایثار اور قربانی کی مثال پیش کرتی ہے۔

سوالوں کے جواب لکھیے

  1. سوال: موتی نگر کی وادی میں داخل ہوتے ہی مسافروں کا مزاج کیوں بدل گیا؟
    جواب: موتی نگر کی وادی خوبصورت، سر سبز اور ٹھنڈی تھی۔ وہاں کا موسم خوشگوار اور منظر دلکش تھا۔ اسی وجہ سے سب کے مزاج بدل گئے اور سب خوش ہو گئے۔
  2. سوال: رجنی پہلی دفعہ خوشی حاصل کر کے کس کی وجہ سے رات بھر سو نہ سکی؟
    جواب: رجنی کو پہلی دفعہ خوشی ملی کہ اب اسے اور اس کے بہن بھائیوں کو کھانا ملے گا، اچھے کپڑے اور رہنے کی جگہ ملے گی، اسی خوشی میں وہ رات بھر سو نہ سکی۔
  3. سوال: پہاڑ چڑھتے وقت رجنی اور اس کے بہن بھائیوں کے جذبات کیا تھے؟
    جواب: پہاڑ چڑھتے وقت رجنی اور اس کے بہن بھائی تھکے ہوئے تھے، لیکن ان کے دل میں امید تھی کہ اوپر جا کر زندگی بدل جائے گی اور انہیں بھوک، ڈر اور سردی سے نجات ملے گی۔
  4. سوال: کیلاش نے ایسا کیا کہا جس سے رجنی پر بجلی سی گر پڑی؟
    جواب: کیلاش نے جب یہ دیکھا کہ رجنی اپنے سب بھائی بہنوں کے ساتھ آئی ہے تو کہہ دیا کہ میں اتنے زیادہ بچوں کو نہیں رکھ سکتا۔ اس بات سے رجنی بہت مایوس ہو گئی۔

عملی کام

  1. سوال: افسانے کا مرکزی خیال بتایئے۔
    جواب: اس افسانے کا مرکزی خیال یہ ہے کہ غربت اور محتاجی انسان کو بہت مشکلات میں ڈال دیتی ہے۔ غریب لوگ اپنی بنیادی ضروریات کے لیے بہت محنت اور قربانی دیتے ہیں، لیکن اکثر انہیں مایوسی اور مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
  2. سوال: اس افسانے میں ایک محاورہ استعمال ہوا ہے: “بجلی گرنا”، یہ محاورہ کس موقع پر استعمال ہوتا ہے؟ ایک یادو جملوں میں استعمال کر کے واضح کیجیے۔
    جواب: “بجلی گرنا” اس وقت کہا جاتا ہے جب کسی پر اچانک بہت بڑی مصیبت یا پریشانی آ جائے یا اچانک کوئی بہت بری خبر ملے۔
    مثلاً: امتحان کے دن پتا چلا کہ میری فیس جمع نہیں ہوئی، یہ سن کر مجھ پر بجلی گر گئی۔
  3. سوال: اس افسانے کے آخری جملے کی وضاحت کیجیے۔
    جواب: افسانے کا آخری جملہ ہے کہ “رجنی بچوں کو اندھیرے اور بھوک اور ڈر کی آغوش میں چھوڑ کر پڑوسیوں کی دیا کا امتحان کرنے نکل کھڑی ہوئی۔”
    اس کا مطلب ہے کہ رجنی اپنی آخری امید کے طور پر اپنے بھائی بہنوں کے لیے پڑوسیوں سے مدد مانگنے جاتی ہے، تاکہ وہ ان کی بھوک کو کچھ دیر کے لیے مٹا سکے۔ یہ غربت اور بے بسی کا عکاس ہے۔

مصنف حیات اللہ انصاری کے بارے میں

حیات اللہ انصاری 1926ء کو لکھنؤ میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے مسلم یونیورسٹی سے تعلیم حاصل کی اور دوران تعلیم ہی کہانیاں لکھنا شروع کر دیں۔ 1937 میں ہفتہ وار اخبار “ہندوستان” سے وابستہ ہو گئے اور پھر مختلف اخبارات میں کام کرتے رہے۔ 1944 میں دہلی آکر “قومی آواز” میں اہم ذمہ داریاں سنبھالیں۔ 1966 اور 1982 میں ریٹائر ہو کر لکھنے اور تحقیق کے کاموں میں مصروف رہے۔
انہوں نے تحقیق، افسانہ، ناول اور بچوں کے لیے کہانیاں لکھیں۔ ان کی مشہور کتابیں “تحفہ” اور “دن میں رات” ہیں۔ تعلیم، انسانی فطرت اور معاشرتی مسائل ان کے افسانوں کے اہم موضوعات ہیں۔ ان کے افسانے سادہ زبان میں ہوتے ہیں اور حقیقت پر مبنی مسائل بیان کرتے ہیں۔ بچوں کے لیے بھی انہوں نے کئی خوبصورت کہانیاں لکھی ہیں، جن کا مجموعہ “کالا دیو” کے نام سے شائع ہوا۔

افسانہ بھیک پر ۲۰ معروضی سوالات

MCQs on ‘Bheek’ by Hayatullah Ansari

ہر سوال کے بعد درست یا غلط جواب کے ساتھ وضاحت دکھائی جائے گی۔ ہر سوال کے نیچے چار آپشنس ہیں کسی ایک پر کلک کریں۔


سوال 1: موتی نگر کی وادی میں داخل ہوتے ہی مسافروں کا مزاج کیوں بدل گیا؟
سوال 2: رجنی پہلی بار خوش کیوں تھی؟
سوال 3: رجنی کے ساتھ کتنے بہن بھائی تھے؟
سوال 4: رجنی کو سب سے زیادہ کس کی فکر تھی؟
سوال 5: پہاڑ چڑھتے ہوئے بچوں کو کس بات کی امید تھی؟
سوال 6: کیلاش نے رجنی کو شروع میں کیا وعدہ دیا تھا؟
سوال 7: کیلاش کیوں جھنجھلا گیا؟
سوال 8: کیلاش نے آخر میں رجنی کو کیا دیا؟
سوال 9: رجنی نے دو روپے سے کیا خریدا؟
سوال 10: آخر میں رجنی اور اس کے بہن بھائی کہاں چلے گئے؟
سوال 11: رجنی کی سب سے بڑی خواہش کیا تھی؟
سوال 12: رجنی للو پر خاص توجہ کیوں دیتی تھی؟
سوال 13: کہانی کا مرکزی موضوع کیا ہے؟
سوال 14: بچوں کو دیکھ کر کیلاش کی بہنوں نے کیا کہا؟
سوال 15: رجنی کے آنسو کس بات کا اظہارتھے؟
سوال 16: کیلاش کے رویے میں کیا تضاد تھا؟
سوال 17: رجنی کے قافلے کے سفر کی کیا کیفیت تھی؟
سوال 18: بچوں کے ناک بہتے اور میلے کپڑوں کی تصویر کشی کس مقصد کے لئے کی گئی؟
سوال 19: کہانی کے آخری حصے میں رجنی کہاں گئی؟
سوال 20: اس افسانے کا بنیادی پیغام کیا ہے؟
درست: 0 غلط: 0 کل سوال: 20

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.