Skip to content

آزمائش ڈرامہ نواے اردو مکمل تشریح اور سوالوں کے جواب

اردو اے کلاس 10 کے طلباء کے لیے یہ جامع مواد ’نواۓ اردو‘ کی نصابی کتاب میں شامل مشہور ڈرامے ’’آزمائش‘‘ پر مبنی ہے۔ اس میں ڈرامے کا مفصل خلاصہ، اہم سوالات و جوابات، اور مشکل الفاظ کی آسان وضاحت دی گئی ہے تاکہ طلباء کو بہتر سمجھنے میں مدد ملے۔ ’’آزمائش‘‘ 1857 کی جنگ آزادی کے پس منظر میں لکھا گیا ہے اور اس میں حب الوطنی، قربانی، اور انسانی جذبوں کی بہترین عکاسی کی گئی ہے۔ اس پوسٹ کے ذریعے اردو زبان و ادب کی تعلیم کو سہل اور قابل فہم بنانے کی کوشش کی گئی ہے تاکہ طلباء نہ صرف نصاب کی تیاری کر سکیں بلکہ ادبی ذوق میں بھی اضافہ ہو۔ یہ مواد اردو زبان کی مہارتوں کے فروغ اور قومی تاریخ کی جانکاری کے لیے انتہائی مفید ثابت ہوگا۔

Lesson 5 Azmaish by Mohammad Mujeeb NCERT Nawa-e-Urdu

آزمائش ڈرامے کا خلاصہ

ڈرامہ “آزمائش” محمد مجیب کے قلم سے 1857 کی جنگ آزادی کے پس منظر میں تحریر کیا گیا ہے۔ اس کے مرکزی کردار رام سہائے مل اور اُس کی بیوی بھاگ وتی ہیں، جو اپنے گھر میں دو جہادی خواتین، سلمی اور رانی کشن کنور کو پناہ دیتے ہیں۔ یہ دونوں خواتین آزادی کی جدوجہد میں بھرپور حصہ لے چکی ہیں اور زخموں کی وجہ سے چھپنے پر مجبور ہیں۔ رام سہائے محتاط رہنے کا مشورہ دیتا ہے، مگر بھاگ وتی فرض شناسی اور انسانیت کے جذبے سے مغلوب ہے۔ نازک صورتحال اس وقت پیدا ہوتی ہے جب کچھ سپاہی تلاشی کے لیے آتے ہیں اور سلگتے ہوئے سوالات کرتے ہیں۔ تاہم واقعات کے اختتام پر معلوم ہوتا ہے کہ یہ سپاہی اصل میں انگریزوں کے نہیں بلکہ بخت خاں کے وفادار ہیں، جنہوں نے انگریزی وردی اس لئے پہنی ہے تاکہ برطانوی وفاداروں کی نظر نہ پڑے اور وہ سلمی اور کشن کنور کو بحفاظت شہر سے باہر نکال سکیں۔ سپاہیوں کا سخت برتاؤ دراصل بچاؤ کی حکمت عملی ہے۔ اس ڈرامے میں قربانی، ہم آہنگی اور حب الوطنی کا جذبہ نمایاں ہے، نیز ہندو مسلم اتحاد کی مثال بھی اجاگر کی گئی ہے۔

لفظ اور معنی

اردو لفظمعنی (اردو)Meaning (English)
ڈیوٹپرانی قسم کا لکڑی کا چراغ دانOld wooden lamp stand
روہانسی (روانسی)رونے پر آمادہAbout to cry
جہادی عورتیںوہ عورتیں جنھوں نے ملک کی حفاظت کے لیے جنگ میں حصہ لیاWomen who fought for the country
امان کا پروانہوہ حکم نامہ جس کے ذریعے تحفظ کی ضمانت دی جائےDocument guaranteeing safety
سنگیننکلا ہتھیار جو بندوق کے نال پر لگایا جاتا ہےBayonet (blade fixed on rifle)
فائر فیرگولی چلاناTo fire (shoot a gun)
مشکیں کسنادونوں بازو پشت پر باندھناTo tie hands behind the back

غور کرنے کی بات

  • آپ پڑھ چکے ہیں کہ یہ ڈراما 1857 کے تاریخی واقعات پر مبنی ہے۔ اس آخری ایکٹ میں لالہ رام سہائے کی بیوی بھاگ وتی نے جنگ آزادی میں شرکت کرنے والی دو جہادی عورتوں سلمی اور رانی کشن کنور کو اپنے گھر میں چھپا رکھا ہے۔
  • 1857 کی جنگ آزادی میں ہندو مسلمان مرد اور عورتوں نے برابر کا حصہ لیا۔ اس وقت یہ تفریق نہ تھی کہ کون ہندو ہے اور کون مسلمان ۔ بس ایک ہی مقصد تھا کہ کسی طرح ملک آزاد ہو جائے اور انگریز ہندوستان چھوڑ کر چلے جائیں۔

سوالوں کے جواب لکھیے

سوال نمبر 1:
رام سہائے اور اس کی بیوی بھاگ وتی کے خیالات میں کیا فرق ہے؟
جواب:
رام سہائے مل زیادہ محتاط اور حقیقت پسند ہے۔ وہ چاہتا ہے کہ خطرات سے بچاؤ کیا جائے اور ماحول کا اندازہ لگا کر فیصلے کیے جائیں۔ وہ سمجھتا ہے کہ چھپنے والے لوگ زیادہ خطرے میں ہیں اور احتیاط ضروری ہے۔ دوسری طرف بھاگ وتی کا دل جذبے اور ہمدردی سے بھرپور ہے۔ وہ لاچار اور لاوارث عورتوں اور بچوں کو پناہ دینے پر مضبوطی سے قائم ہے، چاہے اس کے لیے خطرات کیوں نہ ہوں۔ اس کی ہمدردی اور قربانی کا جذبہ رام سہائے سے زیادہ زیادہ گرم اور فعال ہے۔

سوال نمبر 2:
رام سہائے مل کے دروازے پر سپاہی آئے تو اس نے کیوں کہا کہ میرے پاس امان کا پروانہ ہے؟
جواب:
رام سہائے مل نے کہا کہ اس کے پاس “امان کا پروانہ” ہے تاکہ سپاہیوں کو یقین دلایا جا سکے کہ وہ حفاظت کے تحت ہیں اور ان پر حملہ نہیں کیا جائے گا۔ یہ پروانہ ایک طرح کا تحفظ نامہ تھا جو ظاہر کرتا تھا کہ وہ برطانوی حکام کی جانب سے محفوظ ہے، اس لیے سپاہیوں کو اسے پریشان کرنے یا گرفتار کرنے کا حق نہیں ہے۔ رام سہائے کا یہ کہنا ایک دفاعی حکمت عملی تھی تاکہ گھر کی حفاظت ہو سکے اور چھپے ہوئے لوگوں کو خطرہ نہ ہو۔

سوال نمبر 3:
سپاہی سلمی اور کشن کنور کی مشکیں کس کر شہر سے باہر کیوں لے جانا چاہتے تھے؟
جواب:
سپاہی سلمی اور کشن کنور کو مشکیں کس کر باہر لے جا رہے تھے تاکہ انھیں قیدی بنا کر محفوظ طریقے سے شہر سے باہر منتقل کیا جا سکے۔ دراصل یہ سپاہی بخت خان کے وفادار تھے اور انگریزی وردیاں پہنے ہوئے تھے تاکہ دشمن کے وفاداروں کی نظر نہ پڑے۔ ان کا مقصد ان جہادی عورتوں کو خطرے سے دور رکھنا اور ان کی حفاظت کرنا تھا، اس لیے وہ ان کو بری طرح پیش آ رہے تھے تاکہ کسی کو شک نہ ہو اور ان کی نقل و حمل آسان ہو جائے۔

    اہم سوالات اور انکے جوابات

    سوال نمبر 1:
    آزمائش ڈرامے کا مرکزی واقعہ کس تاریخی دور میں پیش آیا ہے؟
    جواب:
    یہ واقعہ 1857 کی جنگ آزادی کے دوران پیش آیا ہے۔

    سوال نمبر 2:
    رام سہائے مل اپنی بیوی بھاگ وتی کے مقابلے میں کس طرح کا کردار ہے؟
    جواب:
    رام سہائے مل زیادہ محتاط اور حقیقت پسند ہے جبکہ بھاگ وتی ہمدرد اور قربانی کے جذبے سے بھرپور ہے۔

    سوال نمبر 3:
    بھاگ وتی نے سلمی اور کشن کنور کو اپنے گھر میں کیوں چھپایا؟
    جواب:
    کہ وہ دونوں جنگ آزادی میں شامل تھیں اور زخمی ہو کر مدد کی ضرورت میں تھیں۔

    سوال نمبر 4:
    رام سہائے مل نے سپاہیوں کو اپنے دروازے پر کیا جواب دیا؟
    جواب:
    کہ میرے پاس امان کا پروانہ ہے، جو انہیں تحفظ کا یقین دلاتا ہے۔

    سوال نمبر 5:
    سپاہی سلمی اور کشن کنور کو کیوں مشکیں کس کر لے جا رہے تھے؟
    جواب:
    یہ سپاہی اصل میں بخت خان کے وفادار تھے اور انہیں محفوظ طریقے سے باہر لے جانے کے لیے ایسا کر رہے تھے۔

    سوال نمبر 6:
    آزمائش میں ہندو اور مسلمان کرداروں کی جنگ آزادی میں شرکت کا کیا مفہوم ہے؟
    جواب:
    یہ کہ جنگ آزادی میں مذہب کی تقسیم اہمیت نہیں رکھتی، سب کا مقصد ملک کی آزادی تھا۔

    سوال نمبر 7:
    بھگ وتی کے آنسووں کی کیا وجہ تھی؟
    جواب:
    وہ اس بات پر رورہی تھی کہ کئی لاچار عورتیں اور بچے جنگ کی وجہ سے بے سہارا ہو گئے ہیں۔

    سوال نمبر 8:
    رام سہائے مل نے کہا کہ اگر سلمی اور کشن کنور باہر جا کر دوبارہ لڑائی میں شامل ہوئیں تو کیا ہوگا؟
    جواب:
    کہ وہ پکڑی جائیں گی اور بھاگ وتی کو سزا دی جائے گی۔

    سوال نمبر 9:
    سلمی اور کشن کنور نے اپنے جرم کا اقرار کیوں نہیں کیا؟
    جواب:
    کیونکہ وہ اپنے ملک اور بادشاہ کی خدمت میں لڑیں اور اپنی قربانی کو جرم نہیں سمجھتی تھیں۔

    سوال نمبر 10:
    سپاہیوں نے آخر میں سلمی اور کشن کنور سے کیا کہا؟
    جواب:
    کہ وہ معاف کئے جائیں کیونکہ انکو سلمی اور کشن کنور کو ڈھونڈ کر لانے کا حکم ملاتھا اور ان کی نیت ان کی حفاظت تھی۔

    مصنف کے بارے میں

    محمد مجیب 1902 میں لکھنو میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد ایک معروف وکیل تھے۔ انہوں نے اپنی ابتدائی تعلیم لکھنو کے لوریٹو کانونٹ میں حاصل کی اور پھر دہرہ دون کے ایک پرائیوٹ اسکول سے سینئر کیمبرج کا امتحان پاس کیا۔ 1919 میں محمد مجیب نے آکسفورڈ یونیورسٹی سے جدید تاریخ میں بی۔ اے (آنرز) کیا۔ انہوں نے برلن میں جرمن اور روسی زبانیں سیکھی اور فرانسیسی زبان بھی آکسفورڈ میں سیکھ چکے تھے۔ ڈاکٹر ذاکر حسین کے ساتھ مل کر انہوں نے جامعہ ملیہ اسلامیہ کی بنیاد رکھی اور وہاں چوبیس برس تک شیخ الجامعہ (وائس چانسلر) کے عہدے پر فائز رہے۔ محمد مجیب نے نہایت صاف، سادہ اور سلیس نثر میں آٹھ ڈرامے لکھے جن میں سے ‘آزمائش’ خاص طور پر مشہور ہے۔ ان کے مکالموں میں بول چال کا فطری انداز پایا جاتا ہے۔ انہوں نے اردو اور انگریزی میں بہت سی کتابیں تحریر کیں اور ادبی و انتظامی دونوں میدانوں میں نمایاں خدمات انجام دیں۔ ان کا انتقال دہلی میں ہوا۔ ان کی تحریریں اردو ادب میں نمایاں مقام رکھتی ہیں اور خاص طور پر ‘آزمائش’ نے اردو تھیٹر میں ایک نیا رنگ بھرا۔

    Leave a Reply

    Your email address will not be published. Required fields are marked *

    This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.